مدینۃ المنورہ سے ایک نعت
طاہرانجم صدیقی
ہم آئے تو پوچھ رہے ہو شہرِ مدینہ کیسا ہے؟
رحمت رحمت والا ہے اور جنّت جنّت جیسا ہے
پوچھ رہے ہو شہرِ مدینہ گھوم کے دیکھا؟ کیسا ہے؟
جنّت دیکھی ہوتی تو ہم کہہ دیتے بس ویسا ہے
پوچھ رہے ہو شہرِ نبی کا کھانا کیسا لگتا ہے؟
طاقت، طاقت والا ہے اور برکت، برکت جیسا ہے
پوچھ رہے ہو شہرِ نبی کا موسم ہم کو راس آیا؟
رشکِ بہاراں جس پہ قرباں، دھوپ کا موسم ایسا ہے
پوچھ رہے ہو ہم سے سلامی دیں تو کیسا لگتا ہے؟
آکر دیکھو تو سمجھو گے سامنے جانا کیسا ہے؟
پوچھ رہے ہو ہم سے بقیع کے بارے میں تم اے پیارو!
اُن کے پیارے دفن جہاں ہیں کیسے بتائیں کیسا ہے؟
مسجدِ نبوی میں جو نمازیں پڑھ کر لَوٹے مت پوچھو
رشک ہزاروں سجدوں کو ہو، ایک ہی سجدہ ایسا ہے
پوچھ رہے ہو ہم سے ریاض الجنّہ میں کیا ہوتا ہے؟
جنّت ہی کے ٹکڑے کو کیا بولیں جنّت جیسا ہے
پوچھ رہے ہو بدر سے آکر ہم کو کیسا لگتا ہے؟
اِترا اِترا اُن کے سامنے آنے، جانے جیسا ہے
یہ بھی پوچھو ہم سے، قُبا کی دو رکعت سے کیا حاصل ہے؟
دو رکعت پڑھ لینا طاہرؔ عمرہ کرنے جیسا ہے
مت پوچھو تم شہرِ نبی میں آنا! نازاں قسمت پر
شہرِ نبی سے جانا لیکن جان سے جانے جیسا ہے
(باب الحجرۃ پر عصرومغرب کے درمیان
مکمل ہوئی نعتِ پاک، جس میں بعد میں چند اشعار کا اضافہ بھی ہوا.
(8/5/2025 7:04 pm)

اسلام وعلیکم بھائی
ReplyDeleteجزبات کی روانی اور بیانی کا کیا ہی اجر ہوگا انشاءاللہ
مگر عرض نگارش کہ میڈ کا مطلب بھی سمجھا دیں
سبحان اللہ، ماشاءاللہ! 🌹❤️
ReplyDeleteکیا خوبصورت اندازِ بیاں ہے، ہر شعر عشقِ رسول ﷺ سے لبریز ہے۔ الفاظ میں عقیدت، لہجے میں محبت اور دل میں آقا ﷺ کی عظمت کا احساس نمایاں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس خوبصورت نعتیہ کلام کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں مقبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🏻🌹
واہ واہ! کیا خوب عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں! ہر شعر دل کو چھو لینے والا اور ہر لفظ محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے معمور ہے۔ بے شک ایسی نعتیں سننے والوں کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کر دیتی ہیں۔ سبحان اللہ! 🌹✨
ReplyDeleteنعتِ رسولِ ﷺ اردو شاعری کی وہ پاکیزہ صنف ہے جس میں عشقِ رسول ﷺ اور عقیدتِ مدینہ کے جذبات نہایت دل نشیں انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ زیرِ نظر نعت بھی مدینۂ منورہ کی عظمت، روحانی کشش اور دیدارِ مدینہ کی قلبی کیفیت کی خوب صورت عکاسی کرتی ہے۔ اس نعت میں شہرِ مدینہ سے والہانہ محبت، قلبی وارفتگی اور روحانی سرشاری کا نہایت دل نشیں اظہار ملتا ہے۔ شاعر نے تشبیہ اور مبالغے کے لطیف استعمال سے مدینۂ منورہ کی عظمت و رفعت کو مؤثر انداز میں نمایاں کیا ہے۔ ہر شعر میں سادگی، روانی اور دل نشیں اندازِ بیان پایا جاتا ہے، جو قاری کے دل میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرتا ہے۔ جنت، رحمت، برکت اور بہار جیسے الفاظ نے کلام کی معنوی دل کشی اور روحانی تاثیر میں اضافہ کیا ہے۔ مسجدِ نبوی، ریاض الجنۃ، جنت البقیع، میدانِ بدر اور مسجدِ قبا کا ذکر عقیدت و محبت کی کیفیت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ اس نعت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ شاعر نے اپنے ذاتی احساسات کو ایسے مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا خود کو مدینے کی فضاؤں میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ نعت عشقِ رسول ﷺ، عقیدتِ مدینہ اور روحانی وابستگی کا ایک دل آویز نمونہ ہے۔
ReplyDeleteبہت عمدہ، محترم طاہر انجم صدیقی صاحب! آپ نے نعتِ رسولِ ﷺ کے پیکر میں اپنے قلبی احساسات کو نہایت خوب صورت انداز میں شعری پیکر عطا کیا ہے۔ دعا ہے کہ آپ کے قلم کی یہ خوبیاں تا دمِ آخر برقرار رہیں اور آپ کا فن عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو سے یونہی مہکتا رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے قلم کو مزید جِلا، فکر کو وسعت اور سخن کو قبولیت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
دعاوں کا طالب : نورالدین نور
جزاک اللہ خیرا کثیرا...... بہت بہت شکریہ محترم نورالدین نور سر!
Deleteماشاء سبحان اللہ سبحان اللہ
ReplyDeleteماشاء اللہ کیا کہنے بہت عمدہ سبحان اللہ سبحان اللہ
ReplyDeleteسبحان اللہ سبحان اللہ
ReplyDeleteکیا کہنے طاہر بھائی بہت عمدہ
بہترین نعتِ رسولﷺ