** گارڈ بابا! خدا حافظ**
طاہرانجم صدیقی (مالیگاؤں)
نیوارا انگلش میڈیم اسکول میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے گارڈ بابا سے ہی ملاقات ہوتی تھی۔ وہ اکثر سیکیورٹی یونیفارم زیب تن کیے ہوتے۔ ان کی یونیفارم سے گہری رنگت پر پُرخلوص مسکراہٹ دل کو موہ لیتی تھی۔ بعض اوقات وہ کرتا پاجامہ پہنے ہوتے، تب بھی مسکراہٹ بھرے استقبال کے لیے ان کا کرسی سے اٹھ جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ اگر اسکول میں داخلے کے وقت وہ آس پاس کہیں کھڑے ہوتے تو لپک کر آگے بڑھتے، ہاتھ ملاتے اور بسا اوقات سلام کر کے ثواب کمانے میں سبقت لے جاتے۔ یا بعض اوقات کہیں دور کسی کام میں مصروف ہوتے تو وہیں سے ہاتھ اٹھا کر مسکراہٹ بھرا سلام کرتے.
میں نے ان کو جب بھی نیوارا میں دیکھا، کسی بچّے پر ہتھے سے اکھڑ کر چِڑتے نہیں دیکھا۔ وہ طلبہ پر برہم بھی ہوتے تو ان کی برہمی میں ایک خلوص پنہاں ہوتا۔ میں اکثر اسکول میں داخلے کے بعد ان کی خیریت دریافت کر کے حال احوال کر لیا کرتا تھا۔
سیدھے سادے اور بھولے انسان تھے وہ۔ اپنے بال بچّوں کے لیے فکر مند رہتے اور اسکول کا بھی بڑا خیال رکھتے؛ پانی کی ٹانکی بھری یا نہیں؟ وہ اس بات کا بھی خاص دھیان رکھتے کہ لان میں پانی کا چھڑکاؤ ہوا یا نہیں، یا کوئی چیز اِدھر اُدھر تو نہیں ہو گئی۔ ان جیسی تمام باتوں کی وہ بہت فکر کرتے تھے۔
ابھی جب مئی کی چھٹیاں لگیں تو اسکول سے نکلتے وقت ان سے ہاتھ ملا کر نکلا تھا۔ ان کے ہاتھوں کا پُرخلوص لمس اب یاد آ رہا ہے۔ کسے خبر تھی کہ اسکول کی چھٹیوں کے ساتھ ہی ہمارے بابا بھی ایسی طویل رخصت پر چلے جائیں گے جہاں سے لوٹ کر آنا ناممکن ہے۔ کل رات ہی ان کی تدفین ہوئی ہے اور اب وہ کبھی لوٹنے والے نہیں ہیں۔
اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ بھی ان سے ناراض نہ ہو جیسے وہ بچّوں سے ناراض نہیں ہوا کرتے تھے۔ اللہ بھی ان سے خوش رہے جیسے وہ ہم سے خوش ہو کر ملا کرتے تھے اور اللہ ان کا خوب خیال رکھے جیسا وہ دوسروں کا رکھا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں قبر، حشر اور جہنم کی سختیوں سے ایسے ہی محفوظ رکھے جیسے وہ بچوں کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لیے پیرنٹ زون کے شیڈ میں بیٹھ جانے کو کہا کرتے تھے۔
اب جب اسکول دوبارہ کھلے گا، تو ہمارے **حمید رشید منیار بابا** مسکرا کر استقبال کرنے کے لیے موجود نہیں ہوں گے۔ لپک کر ہاتھ نہیں ملائیں گے اور نہ ہی پُرخلوص انداز میں باتیں کریں گے، مگر ان کی یادیں ضرور ہمارے ساتھ رہیں گی۔
**خدا حافظ حمید رشید منیار بابا....... خدا حافظ!**


