Translate ترجمہ

Sunday, October 18, 2026

مدینۃ المنورہ سے ایک نعت

مدینۃ المنورہ سے ایک نعت 

طاہرانجم صدیقی


 ہم آئے تو پوچھ رہے ہو  شہرِ مدینہ کیسا ہے؟

رحمت رحمت والا ہے اور جنّت جنّت جیسا ہے


پوچھ رہے ہو شہرِ مدینہ گھوم کے دیکھا؟ کیسا ہے؟

جنّت دیکھی ہوتی تو ہم کہہ دیتے بس ویسا ہے


پوچھ رہے ہو شہرِ نبی کا کھانا کیسا لگتا ہے؟

طاقت، طاقت والا ہے اور برکت، برکت جیسا ہے


پوچھ رہے ہو شہرِ نبی کا موسم ہم کو راس آیا؟

رشکِ بہاراں جس پہ قرباں، دھوپ کا موسم ایسا ہے


پوچھ رہے ہو ہم سے سلامی دیں تو کیسا لگتا ہے؟ 

آکر دیکھو تو سمجھو گے سامنے جانا  کیسا ہے؟

 

پوچھ رہے ہو ہم سے بقیع کے بارے میں تم اے پیارو!

اُن کے پیارے دفن جہاں ہیں کیسے بتائیں کیسا ہے؟


مسجدِ نبوی میں جو نمازیں پڑھ کر لَوٹے مت پوچھو

رشک ہزاروں سجدوں کو ہو، ایک ہی سجدہ ایسا ہے


پوچھ رہے ہو ہم سے ریاض الجنّہ میں کیا ہوتا ہے؟

جنّت ہی کے ٹکڑے کو کیا بولیں جنّت جیسا ہے


پوچھ رہے ہو بدر سے آکر ہم کو کیسا لگتا ہے؟

اِترا اِترا اُن کے سامنے آنے، جانے جیسا ہے


یہ بھی پوچھو ہم سے، قُبا کی دو رکعت سے کیا حاصل ہے؟

 دو رکعت پڑھ لینا طاہرؔ عمرہ کرنے جیسا ہے


 مت پوچھو تم شہرِ نبی میں آنا! نازاں قسمت پر

شہرِ نبی سے جانا لیکن جان سے جانے جیسا ہے



(باب الحجرۃ پر عصرومغرب کے درمیان

مکمل ہوئی نعتِ پاک، جس میں بعد میں چند اشعار کا اضافہ بھی ہوا.

(8/5/2025 7:04 pm)






Wednesday, May 06, 2026

گارڈ بابا! خدا حافظ!

 ** گارڈ بابا! خدا حافظ**

طاہرانجم صدیقی (مالیگاؤں) 









نیوارا انگلش میڈیم اسکول میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے گارڈ بابا سے ہی ملاقات ہوتی تھی۔ وہ اکثر سیکیورٹی یونیفارم زیب تن کیے ہوتے۔ ان کی یونیفارم سے گہری رنگت پر پُرخلوص مسکراہٹ دل کو موہ لیتی تھی۔ بعض اوقات وہ کرتا پاجامہ پہنے ہوتے، تب بھی مسکراہٹ بھرے استقبال کے لیے ان کا کرسی سے اٹھ جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ اگر اسکول میں داخلے کے وقت وہ آس پاس کہیں کھڑے ہوتے تو لپک کر آگے بڑھتے، ہاتھ ملاتے اور بسا اوقات سلام کر کے ثواب کمانے میں سبقت لے جاتے۔ یا بعض اوقات کہیں دور کسی کام میں مصروف ہوتے تو وہیں سے ہاتھ اٹھا کر مسکراہٹ بھرا سلام کرتے. 

میں نے ان کو جب بھی نیوارا میں دیکھا، کسی بچّے پر ہتھے سے اکھڑ کر چِڑتے نہیں دیکھا۔ وہ طلبہ پر برہم بھی ہوتے تو ان کی برہمی میں ایک خلوص پنہاں ہوتا۔ میں اکثر اسکول میں داخلے کے بعد ان کی خیریت دریافت کر کے حال احوال کر لیا کرتا تھا۔

سیدھے سادے اور بھولے انسان تھے وہ۔ اپنے بال بچّوں کے لیے فکر مند رہتے اور اسکول کا بھی بڑا خیال رکھتے؛ پانی کی ٹانکی بھری یا نہیں؟ وہ اس بات کا بھی خاص دھیان رکھتے کہ لان میں پانی کا چھڑکاؤ ہوا یا نہیں، یا کوئی چیز اِدھر اُدھر تو نہیں ہو گئی۔ ان جیسی تمام باتوں کی وہ بہت فکر کرتے تھے۔

ابھی جب مئی کی چھٹیاں لگیں تو اسکول سے نکلتے وقت ان سے ہاتھ ملا کر نکلا تھا۔ ان کے ہاتھوں کا پُرخلوص لمس اب یاد آ رہا ہے۔ کسے خبر تھی کہ اسکول کی چھٹیوں کے ساتھ ہی ہمارے بابا بھی ایسی طویل رخصت پر چلے جائیں گے جہاں سے لوٹ کر آنا ناممکن ہے۔ کل رات ہی ان کی تدفین ہوئی ہے اور اب وہ کبھی لوٹنے والے نہیں ہیں۔

اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ بھی ان سے ناراض نہ ہو جیسے وہ بچّوں سے ناراض نہیں ہوا کرتے تھے۔ اللہ بھی ان سے خوش رہے جیسے وہ ہم سے خوش ہو کر ملا کرتے تھے اور اللہ ان کا خوب خیال رکھے جیسا وہ دوسروں کا رکھا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں قبر، حشر اور جہنم کی سختیوں سے ایسے ہی محفوظ رکھے جیسے وہ بچوں کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لیے پیرنٹ زون کے شیڈ میں بیٹھ جانے کو کہا کرتے تھے۔

اب جب اسکول دوبارہ کھلے گا، تو ہمارے **حمید رشید منیار بابا** مسکرا کر استقبال کرنے کے لیے موجود نہیں ہوں گے۔ لپک کر ہاتھ نہیں ملائیں گے اور نہ ہی پُرخلوص انداز میں باتیں کریں گے، مگر ان کی یادیں ضرور ہمارے ساتھ رہیں گی۔

**خدا حافظ حمید رشید منیار بابا....... خدا حافظ!**

Thursday, September 25, 2025

جہان بھر کے ہوں جلوے ہزار آنکھوں میں


نعتِ پاک

جہان بھر کے ہوں جلوے ہزار آنکھوں میں

رہے مدینے کی لیکن بہار آنکھوں میں

بسا کے ناز کریں جب غُبار آنکھوں میں

ہو میری آنکھوں کا تب ہی شمار آنکھوں میں


جھُکیں تو وہ ہوں، اُٹھیں تو وہی نظر آئیں

"کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں"


انھیں جو دیکھیں خوشی سے برس پڑیں آنکھیں

انہی کی یاد کے ہوں آبشار آنکھوں میں


فرشتے جھوم اُٹھیں حشر میں اگر اٹھوں

 میں اُن کی دید کا لے کر خمار آنکھوں میں


کبھی اٹھایا تھا اک خار خاکِ طیبہ سے

کھلاتا رہتا ہے وہ لالہ زار آنکھوں میں


سجائے رکھتا ہوں میں ان سے دل کی جنت کو 

سمیٹ لایا ہوں نقش و نگار آنکھوں میں


ابھی بھی سامنے لگتا ہے سبز گنبد ہے

ابھی تلک ہیں اُنہی کے مینار آنکھوں میں


ابھی بھی لگتا ہے جاتا ہوں اُن کی ہی جانب

کھُلا ہے اُن کا ابھی بھی دیار آنکھوں میں


ابھی بھی لگتا ہے طیبہ نگر میں چلتا ہوں

ابھی بھی گھومے ہے ہر رہگزار آنکھوں میں 


وہ جن کی نسلیں سلامت رکھی ہیں خود تو نے

مدینے کے وہ کبوتر اُتار آنکھوں میں


مدینے سے یہ جو لَوٹیٖں نہیں رہیں بیباک

عجب قرینہ، عجب سا وَقار آنکھوں میں


بقیع والے سلامت رہیں! سلام بھی لیں!

ہیں اُن کے پیاروں کے اب بھی مزار آنکھوں میں


مینار و گنبد و محراب و جالیاں یا در

کہاں کہاں کا رکھا ہے قرار آنکھوں میں؟ 


جہاں بھی ذکر چلے یہ چھلک ہی جاتی ہیں

جواز، نامِ محمد ہے یار آنکھوں میں


میں دیکھ آیا ہوں طاہرؔ مدینہ بستی کو

کریں تلاش کوئی شئے سُنار آنکھوں میں