Translate ترجمہ

Thursday, April 11, 2024

اٹھائیس کا چاند(طنزومزاح)

چھپانا ہی ہوتا تو کیلنڈر سے چھ دسمبر چھپا لیتا. بلیک ڈے کے ساتھ مسلمانوں کے ماتھے کا کلنک مٹ جاتا."

 طنزومزاح

اٹھائیس کا چاند 

(طاہر انجم صدیقی)




         پُنّے میاں اپنی زبان کی چرخی میں الجھ کر رہ گئے. وہ یاروں میں یہ بھول گئے تھے کہ دوست اچھائی سے زیادہ برائیاں جانتے ہیں. 

         اس روز بھی ان کی زبان کی  قینچی چل رہی تھی. 

         "اپُن نے بھی جوانی میں خوب روزہ رکھا ہے. ایک روزہ نہیں چھوٹتا تھا اپُن کا. بلکہ کئی مرتبہ تو بغیر سحری کے بھی روزہ رکھا ہے اور وہ بھی ایسا کہ.........."

         شفیق نے اُن کی بات اچک لی. 

         "کیا کہا؟ روزہ اور تم؟......... پنّے میاں ذرا آدمی دیکھ کر چھوڑا کرو یار.......ہم دونوں کا سارا رمضان تو باپردہ ہوٹلوں میں کھاتے گزرتا ہے........تمہارے لیے ایک وقت کا کھانا چھوڑنا تو مشکل ہے بڑے آئے بغیر سحری کا روزہ رکھنے والے......... اِدھر دیکھو! یار خان کو! جب روزہ نہیں رکھ پاتا نا تو تمہاری طرح لمبی لمبی چھوڑتا بھی نہیں ہوں. بتاؤں کیا تمہارے روزے کی داستانِ شکم رُبا؟"       

         پُنّے میاں تھوڑا سا جھینپ گیے.....اور منانے والے انداز میں بولے.

          "ارے نہیں یار شفیق! تم تو برا مان گیے. جانے دو."

          "نہیں...... میں تو بتاؤں گا......!"

شفیق نے کمر کس لی. پّنّے میاں کی لنگوٹی کھُل گئی. 

          شفیق نے اکرم، عمران، ریاض اور سلطان کو مخاطب کیا. وہ چاروں سننے کے لئے خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے لیکن پُنّے میاں ہتھے سے اکھڑ گئے. تن کر کھڑے ہو گیے.

          "تم کھڑے رہو یا چلے جاؤ میں تو بتاؤں گا...... سنو بھائی لوگ! داستانِ غیرسحراں! ....... جب یہ روزہ تھے نا...... تو صرف گھر والوں کے لیے تھے !...... صبح گیارہ بجتے ہی ان کا بارہ بج چکا تھا. آدھمکے دربارِ جہانگیری میں.......لگے زنجیر ہلانے....."

" مگر یار شفیق زنجیر تو انصاف مانگنے کے لیے ہلائی جاتی ہے نا؟ "

" ہاں! پُنّے میاں! انصاف ہی تو مانگنے آئے تھے. پیٹ کے چوہوں کے ساتھ انصاف. ان سے خیریت دریافت کی تو مُسمُسی صورت بنا کر کہنے لگے. 

"یار شفیق! پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں. تمہاری بھابھی نے سحری لے لیے زبردستی اٹھا دیا تھا. آج "سَم قدر ( شبِ قدر) ہے. بڑا روزہ ہے نا!......مگر یار شفیق! ابھی تو سارا دن پڑا ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اپُن نے دو دن سے کچھ کھایا پیا نہیں ہے. یہ دھوپ تو چٹکا یوں ماررہی ہے جیسے بھری دوپہر ہو....... گلا سوکھ کر کانٹا ہو رہا ہے....... رحم کرو یار....... کچھ کھِلا پلا دو مجھ........"

          "ایسا؟ ایسا کب بولا تھا؟"

          پُنّے میاں نے شفیق کی بات کاٹ دی. شفیق تنک گیا. 

           "پُنّے میاں! تم تو ایسے گھگیا رہے تھے کہ بس "اللہ کے نام پہ کھلا دو باوا" بولنا ہی رہ گیا تھا اور ابھی پوچھ رہے ہو کہ ایسا کب بولا تھا؟"

            " جاؤ! یار میں تم سے بات نہیں کرتا."

            پُنّے میاں پھول گئے.

            "اور ہاں بھائی لوگ! ان کا ماہرِ فلکیات والا قصہ بھی سناتا ہوں؟"        

            " کیوں نہیں؟"

            " ضرور سناؤ."          

             یکے بعد دیگرے سبھی تائیداً بول پڑے اور شفیق نے بولنے کے لیے ایک لمبی سانس کھینچی. پُنّے میاں کی بولتی بند ہوگئی. ان کا منہ کچھ کہنے کے لیے کُھلا کا کُھلا رہ گیا. وہ جانتے تھے کہ اب گڑا مردہ اُکھڑ کر ہی دم لے گا. 

             شفیق نے اپنی ٹوپی درست کی اور  پُنّے میاں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے.

             "یقین جانو کہ  پُنّے میاں نے سارا رمضان کچھ کھایا ہو یا نہ کھایا ہو مگر میرا کان ضرور کھاتے رہے ہیں. کیوں میاں بتاؤں یا نہیں؟" 

             "تم اور نہیں بتاؤ گے؟ ہو ہی نہیں سکتا. تم میں اور عورتوں میں سرِ مو فرق نہیں ہے. جب تک ستّر گھر جاکر گا نہ لو تم کو چین کہاں؟"

      پُنّے میاں نے عورتوں کی طرح ہاتھ نچا کر ذرا سے مردانہ لہجے میں کہا تو شفیق مسکرا کر کہنے لگا. 

            "پُنّے میاں! تم کو لگتا ہے اس طرح میں رک جاؤں گا.......بھول رہے ہو میاں کہ میرا نام شفیق ضرور ہے.....لیکن ایسے معاملات میں قطعی شفقت نہیں کرتا.......ہاں تو دوستو! میں کہہ رہا تھا کہ یہ پُنّے میاں سارا رمضان میرا کان کھاتے رہے ہیں. پوچھو کیسے؟"

           " کیسے بھئی" 

           " کیسے؟" 

           "کیسے؟" 

            سارے دوست کورس بن گئے. 

         " کیوں پُنّے میاں! کیسے کان کھاتے رہے ان کا؟"

    ریاض نے  پُنّے سے ہی پوچھ لیا اور گیند  پُنّے میاں کے پالے میں ڈال دی.

          " مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ یہ بی بی سی لندن ہے نا. ان ہی سے پوچھو...... ان کا ہی پیٹ پھولا ہوا ہے. جب تک بَکیں گے نہیں نارمل ڈیلیوری نہیں ہونے والی."

          "ہاں بھیّا! ہم تو بکیں گے.......اور تم اپنی وہ بک بک بھول گئے جو سارا رمضان کرتے رہے...... سنو دوستو! یہ اپنے جو  پُنّے میاں ہیں نا...... رمضان کا چاند نظر آتے ہی بھاگے بھاگے میرے پاس آئے. حالانکہ یہ اس روز اوندھے منہ گر گئے تھے اور خود ان کے ماتھے پر بڑا سا گومڑ چاند بن کر چمکنے لگا تھا لیکن خدا جانے انہوں نے چاند کو کب اور کہاں دیکھ لیا. تب سے برابر مجھ سے رابطے میں تھے.

          اس روز کا چاند ٹھیک طرح سے غروب بھی نہیں ہوا ہو گا کہ یہ میرے گھر طلوع ہوگئے. لگے دور ہی سے آوازیں دینے. 

          "شفیق میاں! او شفیق میاں!" 

          میں نے سوچا کہ کیا افتاد آپڑی ہے پُنّے میاں پر جو اس طرح چیخ پکار کررہے ہیں. میں سرعت سے باہر نکلا تو یہ میاں سرگوشی کرنے لگے. 

           "معلوم ہے شفیق میاں کہ آج رمضان کا جو چاند دکھائی دیا ہے نا وہ انتیس کا چاند تھا."

          "مگر یار پُنّے! ہم نے تو ابھی ابھی تیس کا چاند دیکھا ہے نا؟" 

           میں نے وضاحت کی تو یہ فوراً رازدارانہ انداز سے کہنے لگے." 

           "کسی سے بتانا مت کہ ہم نے جو ابھی دیکھا ہے یہ کل کا چاند ہے." 

میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا. سر کھجا کر پوچھ بیٹھا. 

"کل کا چاند؟" 

ہاں! بھئی! یہ کل ہی کا چاند ہے. ہمارا ایک روزہ چھوٹ چکا ہے."

           اس بات پر تو میں اپنے پُنّے میاں کا گومڑ والا چاند دیکھتا رہ گیا جو ان کے ماتھے پر پوری تابناکی کے ساتھ موجود تھا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ہمارے طرم خان مزید کہنے لگے. 

          " ایسے حالات میں جب شک ہو کہ چاند ہو چکا ہے مگر یقین نہ ہو تو اس سے اگلے دن کو"یوم الشک" یعنی شک کا دن کہتے ہیں. اس روز روزہ رکھنا منع کیا گیا ہے."

          اب بھیّا میں تو پریشان ہوگیا. یہ "یوم الشک" کیا کیا بَلا ہے؟ میرے پاس پُنُے میاں پر شک کرلینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا. میں نے سوچا کہ یہ ضرور دو والی دے رہے ہیں. اس سے پہلے میں نے"یوم الشک" کبھی نہیں سنا تھا. بعد میں مسجد کے امام صاحب سے پوچھا اور پُنّے میاں کی صداقت کا اعتراف کیا تو پھر پُنّے میاں روز روز آدھمکنا شروع ہو گئے. روز یہی بات، روز یہی موضوع اور پھر اس میں یہ بات کہ آج سعودی میں اِتنا روزہ ہوا، آج اِتنا ہوا اور تو اور یہ ہمارے پڑوسی ملک کے بارے میں بتا بتا کر سارا رمضان ڈراتے رہے ہیں."

          "ڈراتے رہے سے کیا مطلب؟"

         "اس میں ڈرنے کی کیا بات؟"

         "کہیں تم یہ تو نہیں سمجھ بیٹھے تھے کہ رمضان شروع ہوتے ہی شیطان کے ساتھ تم کو بھی بند کردیا جائے گا؟"

           " نہیں یار! یہ آ آ کر بتاتے تھے کہ ہمارے پڑوسی ملک میں روزہ ہم سے ایک دن آگے چل رہا ہے. سعودی کے برابر چل رہا ہے....... اور ہاں آخر آخر میں تو سعودی کی دھمکیاں جاری کردی تھیں پُنّے میاں نے."

           " وہ کیسے بھئی؟......"

"سعودی کب سے بہادر ہوگئے کہ ان کے نام کی دھمکیاں دی جائیں؟......"

"جس دن سعودی بہادر ہوگئے نا اس دن سے مسلم ممالک کی تاریخ کا سنہرا باب شروع ہوجائے گا."

           "چھوڑا یا سعودی کو ہمیں تو پنّے میاں کی دھمکیاں سناؤ!" 

           سلطان نے کہا اور سبھوں نے کمر کس لی. 

           شفیق نے مزید چہک کر کہنا شروع کیا اور پنّے میاں دھم سے زمین پر آ بیٹھے.

             "یہ جس دن بڑے روزے سے تھے نا...... اس دن تو غضب ڈھایا تھا......میں گیارہ بجے سے ان کے ساتھ کھانے کے چکّر میں گھن چکّر بنا رہا. اِدھر اُدھر مارا مارا پھرتا رہا اور یہ مسلسل مجھ کو پکاتے رہے. بار بار چاند کا تذکرہ...... بار بار سعودی کا ذکر...... بار بار پڑوسی ملک کا ذکر.......اور پھر یہ کہ اب کی بار سعودی والے ہمارے ساتھ عید منائیں گے. ہمارے یہاں جس دن عید ہوگی سعودی عرب میں بھی اسی دن عید ہوگی. مجھ کو لگا کہ چاند کے چکّر میں پُنّے میاں چکور ہوگئے ہیں."

            " ایسا!" ریاض نے درمیان میں کہا

           " کیا بات کرتے ہو؟" اکرم نے سوال کیا اور شفیق نے اپنی بات جاری رکھی.

          "وہ سب چھوڑو! غضب تو یہ ہوا کہ اٹھائیسویں روزے کو آدھمکے پنّے میاں......بڑے رازدارانہ انداز سے کہنے لگے. 

          "میاں شفیق! کسی کو بتانا مت! آج اٹھائیسویں تاریخ ہے."

          "اب بھلا اٹھائیس تاریخ میں چھپانے والی ایسی کون سی بات تھی؟ چھپانا ہی ہوتا تو کیلنڈر سے چھ دسمبر چھپا لیتا.......بلیک ڈے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ماتھے کا کلنک مٹ جاتا."

          "شفیق میاں! تم بہت جلدی سنجیدہ ہوجاتے ہو یار! میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم کو آج اٹھائیس تاریخ ہونے کے باوجود بھی چاند دیکھنا ہے."

          "میاں پنّے! کچھ خوف کیا کرو یار اللہ کا...... اب بھلا اٹھائیس کا چاند کہاں سے لاؤ گے؟ پہلے ہی کیسی کیسی بدعات رائج ہیں. اب تم اٹھائیس والی بھی ایجاد کرو گے؟" 

         "نہیں یار! تم سمجھو تو سہی! میں کہہ رہا ہوں کہ رمضان کا ہمارا پہلا روزہ چھوٹ چکا ہے تم دھیان ہی نہیں دے رہے ہو....... تو اس حساب سے آج انتیسواں روزہ ہے نا؟...... اٹھائیس کا چاند کیسے ہوگا بھلا؟ انتیس کا چاند دیکھیں گے نا ہم لوگ!......... "

         پُنّے میاں فیثاغورث بن گئے. مجھے پُنّے میاں کا حساب کچھ سمجھ میں آیا کچھ نہیں. میں اُن سے الجھ گیا. 

         " پُنّے میاں! اگر لوگوں نے ہم کو اٹھائیس کا چاند دیکھتے ہوئے پکڑ لیا تو ہمارا ایسا مذاق بنے گا نا کہ چاند تو دور کی بات ہے سورج دیکھنا بھی بھول جائیں گے ہم دونوں. "

         "ارے یار شفیق تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے ہم چاند کے بہانے چاندنیوں کو تاڑیں گے......."

          پُنّے میاں نے ایک آنکھ دبا کر کہا. 

         "پُنّے! اب ہم صرف تاڑنے ہی کے تو رہ گئے ہیں.......مگر ایک بات کا دھیان رکھنا کہ اگر قدرت نے ہم کو تاڑ لیا نا تو بڑے خسارے میں رہیں گے."

          "ابے مولانا! منہ میں دانت نہیں پیٹ میں آنت نہیں اب کیا کریں گے تاڑ توڑ کے..... چلو اٹھو! چاند دیکھتے ہیں!"

          پُنّے میاں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھادیا. 

         میں اٹھ کر پُنّے کے ساتھ چلا. ساتھ کیا خاک چل رہا تھا؟ ایسا لگتا تھا کہ پُنّے میاں کو پر لگ گئے ہیں اور وہ مجھے کھینچتے ہوئے لیے چلے جارہے ہیں. میں نے بمشکل ان سے ہاتھ چھُڑایا. میرے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ چل رہے ہیں، دوڑ رہے ہیں یا اُڑ رہے ہیں. تینوں کا ملغوبہ بنے پُنّے میاں نظروں سے اوجھل ہوگئے. 

         اللہ اللہ کرکے میں مسجد والے چوک میں پہنچا تو پُنّے میاں کی بجائے پندرہ بیس لوگ گھیرا بنائے کھڑے نظر آئے. 

          میں دوڑ کر قریب پہنچا تو کسی کو گڑھے سے باہر نکالا جارہا تھا. پائپ لائن کی درستی کے لیے کھودے گئے اُس گڑھے میں اچھا خاصا گدلا گدلا پانی بھرا ہوا تھا. باہر نکالے جانے والے کو غور سے دیکھا تو بیساختہ ہنس پڑا. کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے پُنے میاں نائک کے انیل کپور کی طرح ایک دن کا سی ایم بن گڑھے سے برآمد ہو رہے تھے. 

         میں نے ادھر اُدھر دیکھا اور پوچھ بیٹھا. 

         "یہ کیسے ہوگیا؟" 

         محلّے کے ایک دیڑھ شیانے جوان نے زور سے کہنا شروع کیا. 

         "ارے چاچا! ہم لوگ یہاں قریب ہی کھڑے تھے کہ پُنّے چاچا دوڑتے ہوئے آئے. وہ آسمان پر نہ جانے کیا ڈھونڈ رہے تھے کہ ہمارے چِلّانے اور بتانے کے باوجود بھی یہ اس گڑھے میں اوندھے منہ گرپڑے وہ تو اچھا ہوا کہ ان کو چوٹیں نہیں آئیں...... مگر پُنّے چاچا تم آسمان میں کیا دیکھ رہے تھے؟"

         مجھ پر تو ہنسی کا دورہ ہی پڑگیا. پُنّے کو دیکھتے ہوئے میں نے بیساختہ بول پڑا. 

         "اٹھائیس کا چاند دیکھ رہے تھے جناب!" 

         "اٹھائیس کا چاند؟"

         "مطلب؟" 

         "ارے؟"

         "یہ کیا بات ہوئی؟"

           الگ الگ آوازیں ایک حیرت کا اظہار بن گئیں. 

         میں نے ہنستے ہنستے مختصراً تفصیل بتادی.......لوگوں کے قہقہے اٹھائیس کے چاند کو ان کی چاندنی بیگم کے حوالے کرنے کے بعد بھی جاری رہے. چاندنی بیگم نے پُنّے میاں کو دیکھا تو اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں......... وہ تو اچھا ہوا کہ میں اس گڑھے سے طلوع نہیں ہوا ورنہ میری بیگم تو اپنے سے کی بجائے مجھے ہی پیٹ کر رکھ دیتی.

      شفیق کے اس جملے پر سبھوں کے ساتھ ساتھ خود پُنّے میاں بھی ہنس پڑے. (ختمۂ جاریہ)

طاہرستان پر تشریف آوری کے لیے شکریہ! آپ کی رائے اہمیت کی حامل ہوگی

Thank you very much for visiting *TAHIRISTAAN*. Visit again.